داستان بت پرستوں کی

(تحریر-ظفر اقبال وٹو)

(2010 میں نیپال یاترا کی یاداشتیں)

سفید رنگ کی سیڑھیوں کے دونوں طرف پیپل اور برگد کے درخت تھے اور یہ سیڑھیاں ایک اژدھے کی طرح پہاڑی کو اپنے حصار میں لئے چوٹی کی طرف جا رہی تھیں جہاں سونے سے بنے کلس والا ٹیمپل درختوں کے جھنڈ میں سے تھوڑا تھوڑا نظر آرہا تھا- یہ ٹیمپل بدھ مت کے پیشوا گوتم بدھ سے منسوب تھا جن کی جائے پیدائش “لوم بینی”نام کا قصبہ بھی نیپال میں ہے-میرا نیپالی دوست بتا رہا تھا کہ کوئی زیادہ نہیں صرف ایک ہزار سیڑھیاں ہوں گی- سیڑھیوں پر بندر پھر رہے تھے-

دارلحکومت کھٹمنڈو کے مرکز میں واقع مندروں اور ٹیمپلز کا ایک پورا محلہ ہے جسے “دھوکا دربار “کہتے ہیں- یہیں پر مشہور زمانہ کھڑکیوں والا محل اور زندہ دیوی کا گھر ہے جو کہ ایک نابالغ بچی ہوتی ہے جس کا تعلق ایک خاص قبیلے کی ایک خاص نسل سے ہوتا ہے- بالغ ہونے پر یہ دیوی اپی حیثیت کھو دیتی ہے اور اس جگہ نئی دیوی کو ڈھونڈا جاتا ہے- جس کیلئے ایک باقاعدہ رسم ہوتی ہے-کھٹمنڈو کے ساتھ ہی “بھگتوں” کا شہر “بھگتا پور” ہے- اس کا بھی صدیوں پرانا دھوکا دربارہے جو کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے-

نیپالی لوگ بہت ملنسار اور پاکستانیوں کے دوست ہوتے ہیں- اکثر بڑے ہوٹلوں میں نصرت فتح علی کے پورٹریٹ لگے ہوتے ہیں- غلام علی کی عزلیں خصوصا” چپکے چپکے” اور حیدر علی کا “پرانی جینز اور گٹار” ہر دوسرے نیپالی کو آتا ہے-رمیض راجہ کی کمینٹری کے فین ہیں-

نیپال دنیا کا وہ ملک ہے جہاں بتوں کی تعداد انسانوں کی تعداد سے زیادہ ہے – یعنی کروڑوں کی تعداد میں بت ہیں- گلی محلے دروازے سیڑھیوں دروازے پر- نیپال دنیا کی واحد ہندو ریاست ہے- یہ واحد ملک ہے جس کا جھنڈا چوکور کی بجائے تکونی ہے-

نیپال کی ایک اور وجہ شہرت “ماؤنٹ ایورسٹ” ہے جو دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے-نیپال کے دارالحکومت کا نام بھی منفردہے جسے سن کر کھٹمل یاد آجاتے ہیں یعنی “ کھٹمنڈو “۔

نیپال میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں- گورے ماؤنٹ ایورسٹ کے چکر میں اور جاپانی اور دوسرے لوگ بدھا سے منسوب جگہوں کی یاترا کے سلسلے میں- ائیرپورٹ پر صرف ایک بوتھ نیپالیوں کے لئے ہے جبکہ دسیوں بوتھ غیر ملکیوں کے لئے ہیں-

 

Engr. Zafar Iqbal Wattoo

Categories

Latest Blog