سوچ کا فرق

(تحریر -ظفر اقبال وٹو)

میونسپلیٹی دفتر کے کاؤنٹرکے پیچھے “جولنڈا” نامی نوجوان ڈچ لڑکی کھڑی تھی جسے میں دو دفعہ بتا چکا تھا کہ مجھے” دی ہیگ “ کی شہری پولیس کا تصدیق نامہ چاہئے مگر وہ میری بات سمجھ نہیں پا رہی تھی “ سر ہمارے ریکارڈ کے مطابق آپ کی کوئی کرائم ہسٹری نہیں پھر آپ کو کیوں تصدیق نامہ درکار ہے؟”

میرے اصرار پروہ دفتر کے اندر چلی گئی اور وہاں سے ایک ہندوستانی ڈچ خاتون مسز شرما کو بلا کر لائی جس نے مجھ سے ہندی میں سوال کیا اور میرے اردو میں جواب کو سن کر ایک فارم آگے بڑھا دیا کہ اسے پر کر کے جمع کروا دیں اور کل آکر پولیس کا تصدیق نامہ اٹھا لیں-

میں بولا “مگر میری تو کل پاکستان واپسی کی فلائیٹ ہے آج ہی کچھ کریں؟”

مسز شرما نے کہا “اس فارم پر اپنا پاکستان کا ایڈریس لکھ دیں- تصدیق نامہ آپ کوپاکستان کورئیر کردیا جائے گا”

وہاں سےنکلتے ہوئے میں نے جولنڈا سے کہا “دانک یو ویل (شکریہ)”

وہ بولی “اس کاغذ کے ٹکڑے کا کیا کرو گے؟”

میں نے کہا “ اگر کینیڈا یا آسٹریلیا کی امیگریشن کی درخواست دی تو ضرورت پڑجائے گی”

جولنڈا تقریباً چلا کر بولی “اوہ نو- اوہ نو-ان ملکوں کے لئے اتنے پڑھ لکھ کر جا رہے ہو- خدارا ہالینڈ میں ہی رک جاؤ- تاکہ ہمارے معاشرے کو بھی کچھ فائدہ ہو”

میں نے کہا “دیکھیں گے” اور جلدی سے وہاں سے نکل آیا کیونکہ ابھی مجھے پاکستان کے سفارت خانے جاکر اپنی سند کی بھی تصدیق کروانا تھی اور کل صبح ڈیڑھ سال بعد پاکستان واپسی تھی-

دی ہیگ میں اس وقت پاکستانی سفارت خانہ عالمی عدالت انصاف کے دفتر کے ساتھ والے بلاک میں تھا- جس کے اندر وہی روایتی ماحول تھا- کھڑکی پر ہجوم اکٹھا تھا اور قطار کا کوئی تصور نہیں تھا- مجھے چونکہ جلدی تھی لہذا ایک جاننے والے کے توسط سے سفارت خانے کےاندر تھرڈ سیکرٹری کے پاس چلا گیا- اور آنے کا مقصد بیان کیا-انہوں نے کام توجلدی کردیا مگر آخر پربولے

“پاگل ہو- پاکستان واپس کیوں جا رہے ہو- ہالینڈ میں ہی رکنے کی کوشش کرو- واپس جاکر پچھتاؤ گے”

بات انہوں نے بھی “جولنڈا” والی کی تھی مگر سوچ کا کتنا فرق تھا-

 

Engr. Zafar Iqbal Wattoo

Categories

Latest Blog