
انجنئیر ظفر وٹو
یہ بھی ہمیشہ کی طرح ایک عام جمعہ کا دن تھا جب میں دفتر سے کچھ فاصلے پر واقع جامع مسجد روضتہ رضوان میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے پہنچا تو ملائشئین پولیس کے دو چاک و چوبند جوان صاف ستھری وردی میں ملبوس اپنی ہوٹر والی موٹر سائیکل کے ساتھ مسجد کے مرکزی دروازے کے سامنے مین روڈ پر کھڑے ہوکر خوش گپیاں مار رہے تھے۔
میں پچھلے ایک سال سے ملائشیا میں تھا لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ مسجد کے باہر پولیس والے نظر آئے تھے۔ تاہم باقی سب کچھ معمول کے مطابق تھا کوئی روک ٹوک یا جامہ تلاشی والا سین نہیں تھا بلکہ پولیس والے تو نمازیوں سے لاپرواہ اپنے اپنے نو کیا فون پر مصروف تھے۔
مسجد کے مرکزی ہال میں اگلی پوری صف پر ایک سفید چادر بچھا دی گئی تھی جو کہ پہلے نہیں ہوتی تھی ۔ میں نے اپنے بغل میں بیٹھے ایک ملائی باشندے سے پوچھا کہ آج یہ سفید چادر کیوں تو اس نے جواب دیا کہ آج “اگون” ادھر نماز جمعہ ادا کرنے آرہے ہیں۔
اگون ملائیشیا کے بادشاہ کا نک نیم تھا۔ ملائی قوم کو چیزوں کے نک نیم رکھنے کا بڑا شوق ہے۔ مثلاً عبداللہ کو صرف لہ کہیں گے۔ مہاتیر محمد کو ایم ایم اور کوالالمپور کو صرف کے ایل۔
ملائیشیا کی بادشاہت سے جب سے ڈاکٹر مہاتیر نے “ ڈنگ “ نکالا تھا تو اب بادشاہ صرف لوگوں کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھنے تک ہی محدود ہوکر رہ گیا تھا۔ آزادی سے پہلے ملائشیا تیرہ چودہ ریاستوں میں منقسم تھا اور ہر ریاست کا اپنا راجہ ہوتا تھا۔ یہ راجے بہت طاقتور ہوتے اور اپنی رعایا کو جانوروں کی طرح سمجھتے۔ سرعام بازار میں ان کی چھڑیوں سے پٹائی کر دیتے۔ ان پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا تھا۔ یہ بدمست ہوئے پھرتے تھے۔
آزادی کے بعد ملائیشیا ایک جمہوری ملک قرار پایا لیکن ان راجوں کی طاقت میں کوئی کمی آئی نہ ہی انہوں اپنے طور طریقے تبدیل کئے حتی کہ آزادی کے بیس سال بعد ڈاکٹر مہاتیر جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے ان راجوں کو نتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ۔ چونکہ عوامی طاقت ان کے ساتھ تھی لہذا انہوں نے آہستہ آہستہ قوانین تبدیل کرتے ہوئے چند ہی سالوں میں ان کے پنجوں سے ناخن نکال کر انہیں سرکس والا شیر بنا دیا۔
ملائشیا میں جمہوری نظام ہے لیکن ملک کا آئینی سربراہ بادشاہ ہوتا ہے جسے ہر پانچ سال بعد ملائشیا کی ایک درجن سے زیادہ راجوں کی کونسل متفقہ طور پر منتخب کرتی ہے۔ یوں باری باری ہر ریاست کا راجہ پانچ پانچ سال کے لئے ملائشیا کا بادشاہ بننے کا مزہ چکھ لیتا ہے۔ اپنی اپنی ریاستوں میں یہ راجے آئینی سربراہ یا گورنر ہوتے ہیں۔
بادشاہٍ ملائشیا ہر جمعہ کی نماز مختلف مسجد میں پڑھتا ہے ۔ منتخب مسجد کا اعلان ایک ہفتہ پہلے ہی نماز جمعہ پر کر دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر مسجد میں کوئی خصوصی انتظام نہیں کیا جاتا۔ نہ ہی کو ئی بچو ہٹو کا شور اور نہ ہی کوئی با ادب با ملاحظہ ہوشیار کی صدا۔ نہ کوئی روٹ لگتا ہے ۔بس اگلی پوری صف پر سفید چادر بچھی ہو تو سمجھ جائیں آج بادشاہ صاحب آپ کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کر رہے ہیں۔نماز کے بعد ہر خاص و عام بادشاہ سے ہاتھ ملا سکتا ہے۔
ہم نے بھی اگون جی سے مصافحہ کیا ۔ اگون جی ہمارے پاکستانی انجنئیر ہونے کا جان کر بہت خوش ہوئے اور باہمی دلچسپی کے امور پر ہمارا ہاتھ پکڑ کر تبادلہ خیال فرمایا ۔ وہ شاہ رخ خان کے فین بھی نکلے۔ ہم نے عمران خان کا پتہ پھینکا لیکن وہ انہیں نہیں جانتے تھے کیونکہ ملائشیا برٹش کالونی ہونے کے باوجود بھی کرکٹ جیسی عظیم نعمت سے محروم رہا۔ اس ہائی پروفائل میٹنگ کے بعد پھر ہم دفتر واپس ہو لئے ۔
(قیام ملائشیا کی یاداشت 2003-05)