سکی ٹاہلی- کندیاں پتنڑ-

تقریباً سو سال پرانا درخت –

(PC Nadeem Chaudhry)

سلیم فواد کندی صاحب (Fawad Saleem Kundi)نے اس پرا یک خوب صورت تحریر قلم بند کی ہے جو کہ ان کی وال پر فروری ۲۰۱۶ میں پوسٹ ہوئی ہے

حرف و صوت میں پیش کی جانے والی میری ایک تحریر احباب کی نذر

* * * * * * * * * سکی ٹاہلی * * * * * * * * *

میرے آبائی گھر کندیاں ضلع میانوالی کے پچھواڑے بہتی، دریائے سندھ سے برآمد ، جھیل میں ایستادہ گہرے نیلگوں پانی میں اپنی کوکھ میں کتنی داستانوں کو لیے ،گونگی عوام کی طرح سلے لبوں ، بٹھے پر بیگار پر لگے معصوم بچوں کی حیران آنکھیں لیے ، دیومالائی کردار کی حامل سکی ٹاہلی میرے لیے Fantasy ھے ۔ گیلی ریت کے گھروندے بنانا ۔سٹاپو کھیلنا ۔پتنگ اڑانا ۔چونجی سائی,کوکلا چھپاکی۔پیٹو گرے۔پر کار ۔ مار کٹائی ۔ بنٹے ۔چور بویا ۔رسی ٹپ ۔گیند بلا۔اٹی ڈنڈا ۔والی بال ۔کرکٹ ۔فٹ بال ۔۔کیا کیا کچھ۔مرغ لڑائی جھیل کنارے ۔۔۔۔۔امتحان کے دنو ں رٹے ۔۔جھیل کا پانی اترتے ھی سندھ دریا کی چکنی مٹی کو ڈھو ڈھو کے لانا ۔۔چاچے قندے فقیر کے نعرے مستانے۔۔۔بے برگ و بار سکی ٹاہلی ۔۔۔گرمیوں میں جوان پیراکوں کا سکی ٹاہلی کی پومبلی اونچے لڑے پر چڑھ کر غوطہ زنی۔۔۔ٹاہلی کے بے برگ و بار سوکھے ٹہنے پیر کے مزار کی طرح رنگارنگ کپڑوں رومالوں سے سج جاتے۔۔۔جیسے حسیں آرزویں لٹک کر خود کشی کر لیں…جانے کس کس کی منت ۔۔۔

سکی ٹاہلی دریاے نیل کے سے خراج ہر سال مانگتی۔۔۔جواں سال اسے چھونے جاتے تو مڑ کر ان کی خبر نه ملتی ۔۔ میں بھی اس کے لمس کو ترستا ۔۔بہت الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود شناور نه ھو سکا ۔پھر بھی جب موقعہ ملتا مچھیروں کے ساتھ کشتی پر سکی ٹاہلی کو چھوتا تو جیسے کسی ماورائی محبوبہ سے ملاقات ھو ۔۔اس کے بنجر سوکھے بدن سے چمٹ جاتا اس کے بدن سے کان لگاتا که شاہد کوئی سرگوشی کرے کوئی صدیوں پرانا بھید بتانے ۔پگلے میں نے لب کھولے تو وه مرا آخری دن ھو گا ۔۔کسی وڈیرے کسی حاکم کی باندی ھو جیسے ۔۔۔۔

کیسا دور تھا عورتیں دن کے وقت بچوں کے کپڑے سیاہ ملایشیا سکول یونیفارم جهیل کے پانی میں ڈنڈے مار مار اجلتی اجالتی ۔۔۔فائدہ که شام لڑائی جھگڑے کا امکان کم ھوتا ۔۔۔کیا مجال کے کوئی مشٹنڈا آوارہ نظر اٹھا کر بھی دیکھتا ۔۔۔پتا نہیں عورتوں کے ہاتھ میں ڈنڈے کا کمال تھا یا پھر حیا شرم اس وقت زندہ تھی ۔۔۔

سکی ٹاہلی کے متعلق لوگوں کے نظریات ۔۔۔جنات ۔۔کسی بزرگ کی دعا۔۔۔جو بھی ھو ۔۔کچھ ضرور هے ۔۔۔پانی میں کھڑی سکی ٹاہلی کیوں نہیں گرتی۔۔ بجا کہ اس نے خراج لینا چھوڑ دیا ۔۔۔۔یہاں تو بڑی بڑی حکومتیں گریں ۔۔۔منصوبے خاک میں مل گۓ ۔۔کس قیامت کی منتظر ھے یہ سکی ٹاہلی ۔۔۔۔۔کیا کیا قیامتں نہیں ٹوٹی ۔۔۔۔اوروں کی جنگ میں ھم نے وطن کو لہو رنگ کر دیا ۔۔۔مچھیرو! سکی ٹاہلی کے پاس سے گزرنا تو اس کے سوکھے تن کو آواز دے کر میرا پیغام دینا ھم تمہیں ہر سال خراج دینے کو تیار ھیں پر میرے غزالوں کا لہو کوئی نہ پیے ۔۔۔۔اسے کہنا کہ کہو تو میں اپنے لہو سے تر رومال اس کے سوکھے بدن سے آ کر سجا دیتا هوں ۔۔۔۔( محمد سلیم فواد کندی )

۔۔۔سوکھے شیشم کے درخت کو ھم سکی ٹاہلی کہتے ھیں ۔

Engr. Zafar Iqbal Wattoo

Categories

Latest Blog