
انجنئیر ظفر وٹو
میرے کالج کے زمانے کا ایک یار رضا ارائیں کہتا تھا کہ میں “رئیس المنافقین “ ہوں کیوں کہ میں ہمیشہ سب کے منہ پر منافقت کرتا ہوں۔ ہم اس کی بات کو ہنس کر ٹال دیتے کیونکہ وہ کم پڑھا لکھا تھا۔آج ارمضان میں کچھ ریسٹورنٹ کھلے دیکھ کر اس کی بات یاد آگئی ۔ ان ریسٹورنٹس کے باہر احترام رمضان میں ایک قنات لپیٹ دی گئی تھی اور اندر گلشن کا کاروبار چل رہا تھا۔ تاہم ہوٹل والے قنات کے اوپر “صرف مسافروں کے لئے ہوٹل کھلا ہے” کا بینر لگانا نہیں بھولے تھے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے سگریٹ کی ڈبی کے اوپر لکھ دیا جاتا ہے کہ۔۔ “ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے “۔۔ اور پھر کینسر زدہ کسی انسانی عضو کی ایک بھیانک تصویر بھی ڈبی پر لگا دی جاتی ہے لیکن سکریٹ فروشی کی قانونی اجازت ہوتی ہے۔
یا پھر کرنسی نوٹوں کے اوپر “رزق حلال عین عبادت ہے “ لکھ دیا جاتا ہے مگر وہی نوٹ کِک بیکس ، کمیشن اور رشوت دینے کے لئے استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔
ان سب باتوں کو پڑھی لکھی زبان میں “اوپن سیکرٹ” کہتے ہیں ۔ ایک دفعہ ایک بہت ہی ذہین دوست سے اوپن سیکرٹ کے معانی پوچھ لئے تو فرمانے لگے کہ سہاگ رات کو کمرہ اندر سے بند ہوتا ہے لیکن باہر کے سب لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ اندر کیا چل رہا ہے ۔ اور وہ اس پر راضی بھی ہوتے ہیں کہ یہ صحیح ہورہا ہے۔
دس از کالڈ اوپن سیکرٹ۔ یعنی وہی “منہ پر منافقت “۔
ایک ملائشین دوست نوے کی دہائی میں لاہور ایک کانفرنس اٹینڈ کرنے آئے جو کہ آواری ہوٹل میں ہورہی تھی ۔ وہ آواری میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک دن کرنسی چینج کروانے کی ضرورت پیش آ گئی تو ساتھ ہی واپڈا ہاؤس کے گروانڈ فلور پر ایک پاکستانی بنک کی انٹرنیشنل برانچ میں چلے گئے۔ کرنسی ایکسچینج کاؤنٹر پر تعینات بنک اہلکار سے ڈالر کا ایکسچینج ریٹ پوچھا تو اس بندے نے فرمایا کہ ۔۔۔۔“سرکاری ریٹ یہ ہے جبکہ مجھ سے چینج کراو گے تو تین روپے زیادہ دوں گا “۔
اس اہلکار سے دوتین دفعہ پوچھنے پر بھی یہی جواب ملا تو ملائشین کو ککھ سمجھ نہ آئی اور وہ کنفیوز ہو کر ہوٹل واپس آگیا کیونکہ انہوں نے تو اسی اہلکار سے ہی چینج کروانا تھا۔ جب اپنے پاکستانی کولیگز کو یہ بات بتائی تو انہیں پتہ چلا کہ ان صاحب سے چینج کروانے والی بات کا مطلب ہے وہ ساتھ ہی اپنا پرائیویٹ کام بھی ادھر بیٹھے کررہے ہیں ۔
ملائشین دوست بے ہوش ہوتے ہوتے بچا ۔ کسی ذمہ دار سیٹ پر بیٹھ کر بندہ کھلے عام اپنا بزنس بھی ساتھ ہی کررہا ہے ۔ دس از کنفلکٹ آف انٹرسٹ یا “ مفادات کا ٹکراو “ ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اوپن سیکرٹ بھی ہے۔
وہ ملائشئن دوست اکثر مجھ سے کہا کرتے تھے کہ جب تک تمہارے ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے لوگ ایسا کرتے رہیں گے تب تک ملک غریب سے غریب اور اشرافیہ امیر سے امیر تر ہوتی جائے گی۔ یاد رہے یہ نوے کی دہائی میں ہورہا تھا۔
ایسے بہت سے اوپن سیکرٹ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں ۔سب سے عام مثال یہ ہے کہ غریب کو انصاف لینے میں دو تین نسلوں کا وقت لگ جاتا ہے مگر امیر کے لئے رات کے اندھیرے میں منصف انصاف دینے پہنچ جاتے ہیں۔ وکیل کی بجائے منصف کرنے کے لطیفے عام چلتے ہیں۔ دس از اوپن سیکرٹ ۔ اور ایسی ہی بے شمار اور مثالیں جن کو یہاں گنوانا شروع کریں تو ایک لمبی فہرست بن جائے گی۔
اگر ذرا پیچھے جاکر دیکھنا چاہیں کہُ کہ پاکستان میں یہ اوپن سیکرٹ والا کھیل کب سے شروع ہے تو قد رات اللہ شہاب صاحب صدر ایوب کی طرف سے پٹواری کو کام نکلوانے کے لئے دی جانے والی سو روپے کی رشوت کا قصہ شہاب نامے میں بیان کر چکے۔ ساٹھ کی دہائی میں “دس واز اوپن سیکرٹ “
اور تازہ ترین اوپن سیکرٹ یہ ہے کہ رمضان کے پی میں ختم اور باقی ملک میں پورے ادب و احترام سے جاری ہے۔
جب تک ہم اوپن سیکرٹ کے چکر میں منہ پر منافقت کرتے رہیں گے ، حقائق کا سامنا نہیں کریں گے ، اپنے آپ سے سچ نہیں بولیں گے اور اپنے اپنے گریبان میں نہیں جھانکیں گے ہم دنیا سے پیچھے ہی رہتے چلیں جائیں کیونکہ دنیا کی نظر میں تو ہم رئیس المنافقین ہی رہیں گے۔