موزیک آف یو ای ٹی

(تحریر- ظفر اقبال وٹو )

اس وقت یو ای ٹی میں داخلہ پانے والا ہر طالب علم لاکھوں میں ایک ہوتا تھا – ابتدائی چند دنوں میں تو یوں لگتا تھا جیسے مریخ فتح کرلیا ہو- ہر لڑکا اپنی ذات میں ایک مکمل ہیرو- مگر وقت اور حالات کی چھلنی آہستہ آہستہ انہیں مختلف گروپپوں میں بانٹ دیتی –

شروع کے دنوں میں یہ سب ہیرو ہوتے – خوب چہک رہے ہوتے چمک رہے ہوتے آنکھوں میں خواب ہیں-پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے ہوتے- مگر فائنل ائیر تک آتے آتے کچھ درویش کچھ صوفی اور کچھ پروفیسر بن چکے ہوتے-

سب سے مظلوم طبقہ ڈے سکالرز کا ہوتا تھا جن پر گھر والوں کی کڑی نظر ہوتی – آنے جانے کے وقت کی پابندی اور سب سے بڑی معاشی پابندیاں-

ہاسٹل میں رہنے والے طلبا یونیورسٹی میں شہنشاہوں کی زندگی گزارتے- گھر سے آنے والا باقاعدہ ماہانہ خرچہ اورکسی قسم کی کوئی پابندی نہیں- ڈے سکالرز انہیں رشک سے دیکھتے اور یہ ڈے سکالرز کو ابھی بچہ ہی سمجھتے-

تنظیموں میں جانے والے طلبا کی اپنی مجبوریاں ہوتیں مگر یونین والے طلبا دور سے ہیں پہچانے جاتے- وہ اس طرح کیمپس میں چل رہے ہوتے جیسے ابھی تازہ تازہ ختنے کروا کر آرہے ہوں-

 

 

Engr. Zafar Iqbal Wattoo

Categories

Latest Blog