
تحریر- ظفر اقبال وٹو-
چوہدری دو فقروں سے زیادہ اردو میں بات نہیں کر سکتا- فورا پنجابی میں بولنا شروع کر دیتا ہے اور اس کا آج بھی پسندیدہ مشروب دودھ میں فنٹا ڈال کر پینا ہے- ایک دفعہ سخت بے روزگاری کے عالم میں اس کو اپنے ادارے میں انجنئر کی ایک بہت ہی معقول تنخواہ والی نوکری کی پیش کش کی – کام بہاولپور میں ہو رہا تھا- بولا “میں لہور توں باہر نئیں جانڑاں”- مہینہ بعد پتہ چلا چوہدری سعودیہ چلا گیا ہے- میں نے فون کر کے گلہ کیا تو بولا سال دو کی بات ہے واپس آتے ہی آپ کے ادارے سے منسلک ہو جاؤں گا- لیکن “میں لہور توں باہر نئیں جانڑاں”
یونیورسٹی کے زمانے میں (جون ۱۹۹۶)ایک دن میں اور میرا روم میٹ سخت گرمی کی دوپہر میں آرام کرنے کے لئے اپنے کمرے میں سو رہے تھے- آخری سال کے امتحانات سر پر تھے-کسی نےکمرے کا دروزاہ اتنے سکون سے کھولا کہ ہم دونوں کو پتا ہی نہ چلا- چوہدری صاحب شاید کوئی سوال پوچھنے آئے تھا لیکن ہم گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے چوہدری صاحب نے میری بجائے میرے روم میٹ فاروق کو خوب ہلا جلا کر جگایا اور پوچھا کہ ظفر صاحب کب سوئے تھے- ماس کے اس سوال پر فاروق نے ہنستے ہوئے کہا کہ ظفر صاحب کو جگا کر خود ہی پوچھ لو کہ آپ کب سوئے تھے-اور پھر لمبی تان کرسو گیا-