بس دیا جلائے رکھنا ہے

ہمارے دور کا سب سے لمبا سال اختتام پذیر ہونے کو ہے- یوں تو اس سال میں بھی وہی بارہ مہینے تھے لیکن اس سال کا مارچ سے دسمبر تک کا ہر اک مہینہ کئی سالوں پر محیط تھا- کرونا کی وبا سے زیادہ مہلک اس کا خوف تھا جس نے ہر شعبہ زندگی اور ہر طبقے کو متاثر کیا-

اس سال کے سب سے شاندار لمحآت وہ تھے جب میں نے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو کم وسیلہ لوگوں کے گھروں تک راشن اور کھانا پہنچاتے دیکھا- اس دوران لاتعداد لوگ گھر سے کھانا بنا کر واپڈا گول چکر اور کالج روڈ کے مزدوروں کے ٹھکانوں پر بلا ناغہ تقسیم کرتے رہے-

لاک ڈاؤن نے سکھایا کہ انسان ہی انسان کا علاج ہے-کام اور کاروبار کی ایک حد سے زیادہ مصروفیت انسانی زندگی کے اصل مزے اور مقصد سے دوری کا باعث ہے-

فرصت کے لمحات نے اپنے پروفیشنل زندگی کے تجربات اور بیرون ملک کے اسفار کے مشاہدات کو سپرد قلم (فیس بک) کرنے کی راہ سجھائی جس میں آپ دوستوں کی بے حد پذیرائی ملی- اس بہانے کچھ نئے دستوں کا ساتھ بھی نصیب ہوا- اس سلسلے کو جاری رکھنے اور اسے کتابی شکل دینے کا ارادہ کر لیا ہے-

اس سال کے شروع میں ایک ہزار کلو میٹر چلنے کا ہدف مقرر کیا تھا جو کہ الحمدللہ نومبر میں ہی طے کرلیا تھا- ۲۰۲۱ کا ہدف پندرہ سو کلو میٹر مقرر کیا ہے جو کہ مشکل ضرور مگر ناممکن نہیں- ۲۰۲۱ میں کم ازکم ایک سو گھنٹے خیراتی کاموں میں وقف کرنے کا ہدف ہے-اپنی پروفیشنل ٹیم کے ساتھ انٹرنیشنل جرنل میں ایک تحقیقاتی مقالہ شائع کروانے کا پروگرام ہے انشااللہ –

آئیں سب نئے سال کو اس عزم کے ساتھ خوش آمدید کہیں کہ ہم نے کرونا سے بدلتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال کو عزم اور حوصلے سے گزارنا ہے- اپنی فیملی، رشتہ داروں اور دوستوں کا خاص خیال رکھنا ہے-اپنی امیدیں اور ارادے بلند رکھنا ہیں اور اس وبا کے چیلنج سے نئی راہیں تلاش کرنی ہیں- اللہ تعالی ہم سب کا حامی عناصر ہو – آمین

 

Engr. Zafar Iqbal Wattoo

Categories

Latest Blog