سویا ہوا جِن

سویا ہوا جِن یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ انڈیا کی سرحد سے داخل ہونے کے بعد 10 دن کا وقت گزرنے ، پانچ سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے اور بیس تیس کلومیٹر کی چوڑائی میں پھیل کر چلنے کے باوجود بھی ستلج سے ایک انتہائی خطرناک درجے کا بڑا سیلابی ریلہ پنجند بیراج […]

جانے کب ہوں گے کم

جانے کب ہوں گے کم دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی […]

اوپن سیکرٹ

اوپن سیکرٹ انجنئیر ظفر وٹو میرے کالج کے زمانے کا ایک یار رضا ارائیں کہتا تھا کہ میں “رئیس المنافقین “ ہوں کیوں کہ میں ہمیشہ سب کے منہ پر منافقت کرتا ہوں۔ ہم اس کی بات کو ہنس کر ٹال دیتے کیونکہ وہ کم پڑھا لکھا تھا۔آج ارمضان میں کچھ ریسٹورنٹ کھلے دیکھ کر […]

باداب با ملاحظہ ہوشیار

باداب با ملاحظہ ہوشیار انجنئیر ظفر وٹو یہ بھی ہمیشہ کی طرح ایک عام جمعہ کا دن تھا جب میں دفتر سے کچھ فاصلے پر واقع جامع مسجد روضتہ رضوان میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے پہنچا تو ملائشئین پولیس کے دو چاک و چوبند جوان صاف ستھری وردی میں ملبوس اپنی ہوٹر والی […]

“کٹے اور وچھے” کا قانون

“کٹے اور وچھے” کا قانون (تحریر- ظفر اقبال وٹو) یہ بات غلط ہے کہ نیوٹن جب درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو اس کے سر پر سیب گر کر لگا- اصل میں تو وہ سکول سے بھاگ کر وہاں بیٹھا “کٹے” اور “وچھے” کی حرکات پر غور کر رہا تھا جس کے بعداس نے یہ […]

بس دیا جلائے رکھنا ہے

بس دیا جلائے رکھنا ہے ہمارے دور کا سب سے لمبا سال اختتام پذیر ہونے کو ہے- یوں تو اس سال میں بھی وہی بارہ مہینے تھے لیکن اس سال کا مارچ سے دسمبر تک کا ہر اک مہینہ کئی سالوں پر محیط تھا- کرونا کی وبا سے زیادہ مہلک اس کا خوف تھا جس […]

داستان بت پرستوں کی

داستان بت پرستوں کی (تحریر-ظفر اقبال وٹو) (2010 میں نیپال یاترا کی یاداشتیں) سفید رنگ کی سیڑھیوں کے دونوں طرف پیپل اور برگد کے درخت تھے اور یہ سیڑھیاں ایک اژدھے کی طرح پہاڑی کو اپنے حصار میں لئے چوٹی کی طرف جا رہی تھیں جہاں سونے سے بنے کلس والا ٹیمپل درختوں کے جھنڈ […]

موزیک آف یو ای ٹی

موزیک آف یو ای ٹی (تحریر- ظفر اقبال وٹو ) اس وقت یو ای ٹی میں داخلہ پانے والا ہر طالب علم لاکھوں میں ایک ہوتا تھا – ابتدائی چند دنوں میں تو یوں لگتا تھا جیسے مریخ فتح کرلیا ہو- ہر لڑکا اپنی ذات میں ایک مکمل ہیرو- مگر وقت اور حالات کی چھلنی […]

سوچ کا فرق

سوچ کا فرق (تحریر -ظفر اقبال وٹو) میونسپلیٹی دفتر کے کاؤنٹرکے پیچھے “جولنڈا” نامی نوجوان ڈچ لڑکی کھڑی تھی جسے میں دو دفعہ بتا چکا تھا کہ مجھے” دی ہیگ “ کی شہری پولیس کا تصدیق نامہ چاہئے مگر وہ میری بات سمجھ نہیں پا رہی تھی “ سر ہمارے ریکارڈ کے مطابق آپ کی […]

جنتی لوگ

جنتی لوگ تحریر- ظفر اقبال وٹو- چوہدری دو فقروں سے زیادہ اردو میں بات نہیں کر سکتا- فورا پنجابی میں بولنا شروع کر دیتا ہے اور اس کا آج بھی پسندیدہ مشروب دودھ میں فنٹا ڈال کر پینا ہے- ایک دفعہ سخت بے روزگاری کے عالم میں اس کو اپنے ادارے میں انجنئر کی ایک […]